معارفِ قرآن کا ایک نادر خزانہ
سمرقند کی سرزمین نے علم و حکمت کے بہت سے آفتاب طلوع کیے، مگر ان میں امام الہدیٰ، مفسرِ اعظم اور اسرارِ قرآن کے بے مثال غواص حضرت امام ابو منصور ماتریدی رحمہ اللہ (وفات: 333ھ / 944ء) کی شان نرالی ہے۔ آپ تاریخِ اسلام کے ان یگانۂ روزگار ائمہ میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے فہمِ قرآن، گہری بصیرت اور حکمتِ بالغہ کا وافر حصہ عطا فرمایا تھا۔ آپ کی فکر کا سرچشمہ کتاب و سنت اور سلف صالحین کی تعلیمات ہیں، اور آپ کے چشمۂ فیض سے ہر دور کے اکابر اہلِ علم سیراب ہوتے رہے ہیں۔ برصغیر، وسطی ایشیا، ترکی اور بلقان سے لے کر روس اور چین تک امتِ مسلمہ کا ایک بڑا حصہ—جس میں ساٹھ کروڑ سے زائد مسلمان اور جمہور علمائے احناف شامل ہیں—صدیوں سے فہمِ قرآن، حکمتِ دین اور اصولِ عقائد میں آپ ہی کی بصیرت کا خوشہ چیں چلا آ رہا ہے۔
مگر زمانے کی ستم ظریفی دیکھیے! جس امام نے قرآن کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر کر اس کے حقائق و معارف آشکار کیے، اور جس کی بصیرت کا چراغ صدیوں تک قلوب و اذہان کو روشن کرتا رہا، اس کی اپنی عظیم الشان تفسیر «تأويلات أهل السنة»—جو نقل و عقل کے حسین امتزاج کی ابتدائی اور نادر مثال ہے—ایک ہزار برس سے زیادہ مخطوطات کے پردوں میں چھپی رہی۔ مدارس کی مسندوں پر دوسری تفاسیر سجتی رہیں، اور معارفِ قرآن کا یہ گوہرِ نایاب کتب خانوں کی الماریوں میں گردِ زمانہ اوڑھے پڑا رہا۔ اس کی پہلی مکمل اشاعت 2004ء میں جا کر نصیب ہوئی، یعنی امام رحمہ اللہ کے وصال کے پورے 1060 برس بعد۔ جس امام کے علم و حکمت کا فیض کروڑوں دلوں میں بستا ہے، وہی دل صدیوں تک اس کی اپنی تفسیر سے محروم رہے۔ یہ اس عظیم قرآنی ورثے کے ساتھ کیسی بے اعتنائی تھی!
اردو زبان کا دامن بھی اب تک اس خزانے کے مکمل ترجمے سے خالی تھا۔ یہ ترجمہ اسی قرض کو چکانے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے، تاکہ اردو کا ہر قاری امام رحمہ اللہ کے فہمِ قرآن سے براہِ راست سیراب ہو سکے۔
یہ ناچیز اپنی علمی بے بضاعتی کا معترف ہے۔ اس ترجمے میں جو خوبی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور امام رحمہ اللہ کے فیض کا صدقہ ہے، اور جو کوتاہی ہے وہ مترجم کی کم مائیگی کا نتیجہ۔ اہلِ علم سے گزارش ہے کہ جہاں کوئی لغزش پائیں، ازراہِ کرم مطلع فرمائیں:
profhameed@outlook.com
احقر العباد
عبدالحمید عفی عنہ
اللہ تعالیٰ اس حقیر کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اور اسے مترجم، اس کے والدین اور تمام قارئین کے لیے ذخیرۂ آخرت بنائے۔ آمین۔